پیکرِ دلربا بن کے آیا ، روحِ ارض و سما بن کے آیا​

پیکرِ دلربا بن کے آیا ، روحِ ارض و سما بن کے آیا​
پیکرِ دلربا بن کے آیا ، روحِ ارض و سما بن کے آیا​
سب رسولِ خدا بن آئے ، وہ حبیبِ خدا بن کے آیا​

حضرتِ آمنہ کا دلارا ، وہ حلیمہ کی آنکھوں کا تارا​
وہ شکستہ دلوں کا سہارا ، بے کسوں کی دعا بن کے آیا​

تاجداروں نے دی ہے سلامی ، بادشاہوں نے کی ہے غلامی​
بے مثال اس کا اسمِ گرامی ، مصطفی مجتبی بن کے آیا​

دستِ قدرت نے ایسا سجایا ، حسنِ تخلیق کو رشک آیا​
جس کا پایہ کسی نے پایا ، وہ خدا کی رضا بن کے آیا​

وہ نبی رحمتِ عالمیں ہیں جو بھی ہے اس کے زیرِ نگیں ہے​
ایسا مختار دیکھا نہیں ہے ، جیسا خیر الوری بن کے آیا​

مسندِ ناز عرشِ بریں ہے ، بوریا کس کا فرشِ زمیں ہے​
در کا دربان روح الامیں ہے ، سرورِ انبیاء بن کے آیا​

کیا ظہوری لکھے شان اس کی ، مدح کرتا ہے قرآن اس کی​
نعت پڑھتا ہے حسان اس کی ، جو میرا رہنما بن کے آیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *