چمنِ طیبہ میں سنبل جو سنوارے گیسو

چمنِ طیبہ میں سنبل جو سنوارے گیسو حور بڑھ کر شکنِ ناز پہ وارے گیسو کی جو بالوں سے ترے روضے کی جاروب کشی شب کو شبنم نے تبرک کو ہیں دھارے گیسو ہم سیاہ کاروں پہ یا رب تپشِ محشر میں سایہ افگن ہوں ترے پیارے کے پیارے گیسو چرچے حوروں میں ہیں دیکھو … Read more