بھر دو جھولی میری، جان عالم
بھر دو جھولی میری، جان عالم ! لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی کچھ نواسوں کا صدقہ عطا ہو در پہ آیا ہوں بن کر سوالی تم زمانے کے مختار ہو، یا نبی ! بیکسوں کے مددگار ہو، یا نبی ! سب کی سنتے ہو اپنے ہوں یا غیر ہوں تم غریبوں کے … Read more