بھر دو جھولی میری، جان عالم

 

بھر دو جھولی میری، جان عالم !
لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی
کچھ نواسوں کا صدقہ عطا ہو
در پہ آیا ہوں بن کر سوالی

تم زمانے کے مختار ہو، یا نبی !
بیکسوں کے مددگار ہو، یا نبی !
سب کی سنتے ہو اپنے ہوں یا غیر ہوں
تم غریبوں کے غم خوار ہو، یا نبی !

بھر دو جھولی میری، جان عالم !
لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی

ہم ہیں رنج و مصیبت کے مارے ہوئے
سخت مشکل ہے، غم سے ہیں ہارے ہوئے
یا نبی ! کچھ خدا را ہمیں بھیک دو
در پہ آئے ہیں دامن پھیلائے ہوئے

بھر دو جھولی میری، جان عالم !
لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی

تمہارے آستانے سے زمانہ کیا نہیں پاتا
کوئی بھی در سے خالی مانگنے والا نہیں جاتا

بھر دو جھولی میری، جان عالم !
لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی

حق سے پائی وہ شان کریمی
مرحبا دونوں عالم کے والی !
اس کی قسمت کا چمکا ستارہ
جس پہ نظر کرم تم نے ڈالی

بھر دو جھولی میری، جان عالم !
لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی

زندگی بخش دی بندگی کو
آبرو دین حق کی بچا لی
وہ محمد کا پیارا نواسا
جس نے سجدے میں گردن کٹا لی

جو ابن مرتضیٰ نے کیا کام خوب ہے
قربانی حسین کا انجام خوب ہے
قربان ہو کے فاطمہ زہرا کے چین نے
دین خدا کی شان بڑھائی حسین نے
بخشی ہے جس نے مذہب اسلام کو حیات
کتنی عظیم حضرت شبیر کی ہے ذات
میدان کربلا میں شہ خوش خصال نے
سجدے میں سر کٹا کے محمد کے لعل نے

زندگی بخش دی بندگی کو
آبرو دین حق کی بچا لی
میرے آقا کا پیارا نواسا
جس نے سجدے میں گردن کٹا لی

بھر دو جھولی میری، جان عالم !
لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی

حشر میں ان کو دیکھیں گے جس دم
امتی یہ کہیں گے خوشی سے
آ رہے ہیں وہ دیکھو محمد
جن کی ہے شان سب سے نرالی

ہر نظر کانپ اٹھے گی محشر کے دن
خوف سے ہر کلیجہ دہل جائے گا
مسکراتے ہوئے آپ آ جائیں گے
حشر کا سارا نقشہ بدل جائے گا

آ رہے ہیں وہ دیکھو محمد
جن کی ہے شان سب سے نرالی

بھر دو جھولی میری، جان عالم !
لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی

عاشق مصطفیٰ کی اذان میں
اللہ اللہ کتنا اثر تھا
عرش والے بھی سنتے تھے جس کو
کیا اذان تھی اذان بلالی !

بھر دو جھولی میری، جان عالم !
لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی

ہے مخالف زمانہ کدھر جائیں ہم
حالت بےکسی کس کو دکھلائیں ہم
ہم تمہارے بھکاری ہیں، یا مصطفیٰ !
کس کے آگے بھلا ہاتھ پھیلائیں ہم

بھر دو جھولی میری، جان عالم !
لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی

کاش پرنم ! دیار نبی میں
جیتے جی ہو بلاؤ کبھی دن
حال دل مصطفیٰ کو سناؤں
تھام کر ان کے روضے کی جالی

بھر دو جھولی میری، جان عالم !
لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی
کچھ نواسوں کا صدقہ عطا ہو
در پہ آیا ہوں بن کر سوالی

شاعر: پرنم الہ آبادی
نعت خواں: صابری برادران، اویس رضا قادری، حافظ طاہر قادری، نوال خان

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top