عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں
عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں عرش کی آنکھوں کے تارے ہیں وہ خوشتر ایڑیاں۔ جا بجا پرتَو فگن ہیں آسماں پر ایڑیاں، دن کو ہیں خورشید شب کو ماہ و اختر ایڑیاں۔ نجمِ گردوں تو نظر آتے ہیں چھوٹے اور وہ پاؤں، عرش پر پھر کیوں نہ ہوں محسوس لاغر ایڑیاں۔ … Read more