Mustafa Mujtaba Khatam-ul-Ambiya
مصطفیٰ مجتبیٰ خاتم الامبیا ہوں ہزاروں درود و سلام آپ پر شان رب العلیٰ صورت حق نما ہوں ہزاروں درود […]
مصطفیٰ مجتبیٰ خاتم الامبیا ہوں ہزاروں درود و سلام آپ پر شان رب العلیٰ صورت حق نما ہوں ہزاروں درود […]
دیار میرے حبیب کا ہے، نہ چل یہاں سر اٹھا اٹھا کر دیار میرے حبیب کا ہے، نہ چل
ہمارا سویا نصیبا جگا دیا جائے حضور! عرض ہے طیبہ دکھا دیا جائے شفا جسے نہیں ملتی کہیں زمانے میں
سر جھکائے ہیں فرشتے، حاضری کیا چیز ہے اللہ اللہ ان کے در کی نوکری کیا چیز ہے بلبل سدرہ
توبہ کا دروازہ کھلا ہے، توبہ استغفار کرو گناہ سے نفرت کرو ہمیشہ اور نیکی سے پیار کرو اللہ تعالیٰ
میں جا رہا ہوں در نبی پر، درود لے کر، سلام لے کر تلاش حق میں نکل پڑا ہوں، خدا
جھکی ہوئی ہے جبین دل بھی لبوں پہ آقا کا نام آیا قلم بھی لگتا ہے سر بہ سجدہ ادب
کی کی نہ کیتا یار نے اک یار واستے رب محفلاں سجائیاں نے سرکار واستے دل یاد لئی بنایا اے،
ہر دل میں جو رہتے ہیں، وہ میرے محمد ہیں جو رب کو بھی پیارے ہیں، وہ میرے محمد ہیں
کاش! وہ چہرہ میری آنکھ نے دیکھا ہوتا مجھ کو تقدیر نے اس دور میں لکھا ہوتا باتیں سنتا میں