Awliya Allah

میں نے اپنی گفتگو کو آپ تک پہنچانے کے لیے قرآنِ مجید کے دو مشہور و معروف مقامات سے اس کے کچھ حصص تلاوت کرنے کا شرف و اعزاز حاصل کیا ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے برگزیدہ دوستوں کا ذکر کرتے ہوئے بڑے حسین پیرائے میں فرماتا ہے:

«أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ»”

“«أَلَا» حرفِ تنبیہ، حرفِ تنبیہ ہے۔
اور «إِنَّ» حرفِ تحقیق ہے۔ جملے کی تحقیق کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور حروفِ مشبہ بالفعل کے ساتھ اس کا تعلق ہے۔
«إِنَّ، أَنَّ، كَأَنَّ، لَيْتَ، لَٰكِنَّ، لَعَلَّ» حروفِ مشبہ بالفعل میں سے ہے۔
عام طور پر عربی زبان میں حرفِ تنبیہ اور حرفِ تحقیق ایک ساتھ استعمال نہیں ہوتے۔
محققین علماء کا کہنا ہے کہ جب یہ دونوں حروف ایک ساتھ اکٹھے کسی جملے پر داخل ہوں، تو اپنے دامن میں تاکید اور قسم کا معنی رکھتے ہیں۔
(مجمع: سبحان اللہ!)
یوں کہیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تاکید اور قسم کے انداز میں فرمایا:
(مجمع: سبحان اللہ!)
«أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ»
(مجمع: سبحان اللہ!)
خبردار! بے شک اللہ کے ولیوں کو نہ کوئی خوف ہے اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔
(مجمع: سبحان اللہ!)
«الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ»
میں امید کروں گا کہ آپ اپنی تمام تر توجہ اس قرآنی اور اسلامی گفتگو کی طرف مبذول فرمائیں گے۔
(مجمع: سبحان اللہ!)
اللہ تبارک و تعالیٰ نے خود ہی تعارف کرواتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کے ولی کون ہیں؟
«الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ»
(مجمع: سبحان اللہ!)
اللہ کے ولی وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کی ذات پر ایمان لاتے ہیں،
(مجمع: سبحان اللہ!)
غلامیِ مصطفیٰ کا پٹہ اپنے گلے میں ڈالتے ہیں،
(مجمع: سبحان اللہ!)
اور اس کے تمام تر معاملات کو اپنے اوپر لاگو کر لیتے ہیں۔
(مجمع: سبحان اللہ!)
«الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ»
اور یہ افعالِ ناقصہ لا کر جب اس کے ساتھ فعلِ مضارع استعمال ہوتا ہے، تو اس کے اندر استمرار کا معنی موجود ہوتا ہے۔
(مجمع: سبحان اللہ!)
ایک دن، دو دن، چار دن کی بات نہیں کہ وہ چلہ کشی میں بیٹھتے ہوں، یا چلہ کشی کرنے کے بعد باہر نکل کے من مانی کرتے ہوں!
«الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ»
(مجمع: سبحان اللہ!)
اللہ کے ولی وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کی ذات پر ایمان لاتے ہیں اور ہمیشہ پرہیزگاری کرتے رہتے ہیں۔ ایک دن، دو دن نہیں، ہمیشہ پرہیزگاری ان کا معمول بن جائے!
(مجمع: سبحان اللہ!)
اور جو اللہ کے ولی ہیں، ان کے لیے کیا ہے؟ ذرا توجہ کیجیے!
«لَهُمُ الْبُشْرَىٰ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ»
(مجمع: سبحان اللہ!)
آج کی اس محفل کا ثمرہ کیا ہے؟ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی زبانِ قدرت سے کہتا ہے:
«لَهُمُ الْبُشْرَىٰ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ»
(مجمع: سبحان اللہ!)
ان کے لیے خوشخبریاں ہیں دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت کی زندگی میں بھی۔
(مجمع: سبحان اللہ!)
«لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ»
(مجمع: سبحان اللہ!)
اور مہرِ تصدیق ثبت کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے: تمہارے رب نے جو کلمات کہہ دیے ہیں، اس کے اندر تبدیلی ہونا ممکن ہی نہیں۔”

ویڈیو کے دورانیے 15:00 سے 30:00 تک کی مکمل لفظ بہ لفظ (Verbatim) اردو ٹرانسکرپشن درج ذیل ہے تاکہ آپ اسے آسانی سے یاد کر سکیں:
[15:00]
وہ ایک مرتبہ کہہ دے کہ میں تمہارا دوست ہوں، یہ بات اور ہے۔
نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ
ہم تمہارے دوست ہیں دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت کی زندگی میں بھی۔
اور میری دوستی کا ثمر کیا ہے؟ یہ رب بیان کرتا ہے، کوئی بندہ نہیں۔ یہ رب آپ بتاتا ہے کہ میری دوستی کا ثمر عام بندوں کی دوستی جیسا نہیں ہے۔ اگر کوئی میرے لیے چِتا کے اندر چھلانگ لگاتا ہے، میں اسی چتا کو گلزار بنا دیتا ہوں۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی نے گردن میرے راستے کے اندر رکھی ہو، چھری چلانے والا آیا ہو، اور اس کی گردن کٹ گئی ہو۔ رب کہتا ہے ذبیح اللہ کا لقب بھی دے دیتے ہیں، زمانے کا سردار بھی بنا دیتے ہیں۔
[15:44]
نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ
ہم تمہارے دوست ہیں دنیا کی زندگی میں بھی۔ ہے کوئی جو ربِ ذوالجلال کے اس فرمان کو اپنی جھولی میں ڈالے؟ نہیں سمجھ رہے ہیں۔ یہ کوئی وجیہہ السیما عرفانی کی محفل میں بیٹھنے والا ہی سمجھ سکتا ہے۔
نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ
ہم تمہارے دوست ہیں، دنیا کی زندگی میں بھی، آخرت کی زندگی میں بھی۔
اب میری دوستی کا ثمر کیا ہے؟
وَلَكُمْ فِيهَا… سنو! قرآن عرض کر رہا ہوں، ایسا کلام جس کے اندر کبھی شک و شبہ ہو نہیں سکتا، جو کلامِ قدیم ہے۔
فَضْلُ كَلَامِ اللّٰهِ عَلَىٰ سَائِرِ الْكَلَامِ كَفَضْلِ اللّٰهِ عَلَىٰ خَلْقِهِ
اس قرآن کی فضیلت تمام کلاموں پر ایسے ہے جیسے اللہ کی فضیلت اس کی ساری مخلوق پر ہے۔ اسی کلام سے عرض کر رہا ہوں۔ اب اگر کوئی اس کے جواب میں شعر پڑھے، اب اگر کوئی اپنی بات اس کے جواب میں کرے، اس کا کلام جھوٹا ہے، رب کا کلام سچا ہے۔
[16:52]
وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ
رب کہتا ہے: میری دوستی کا ثمر کیا ہے؟
وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ
میں تمہید اس لیے باندھ رہا ہوں کہ تمہارے سینے کے اندر پتھر کا ٹکڑا نہیں گوشت کا لوتھڑا ہے۔ ذرا اس کے اندر عشق کی دنیا جاگے اور پتہ چلے کہ رب کی دوستی کا ثمر کیا ہوتا ہے!
(مجمع سے نعرے: نعرۂ تکبیر! اللہ اکبر! نعرۂ رسالت! یا رسول اللہ! نعرۂ تحقیق! حق چار یار! فیضانِ رضا! زندہ باد! جاری رہے گا!)
[17:22]
اب رب سے پوچھو کہ رب کہتا ہے میری دوستی کا ثمر کیا ہے؟
وَلَكُمْ فِيهَا… توجہ ہے نا؟
وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ
ارے اب مانگنا تیرا کام ہے، عطا کرنا تیرے رب کا کام ہے۔ مانگ تو چلا جا، دیتے ہم چلے جائیں گے۔ اب ہماری عطا تیرے لیے وقف ہو گئی۔ ہمارا خزانہ تیرے لیے ہو گیا۔ تیری زبان ہلتی گئی، ہمارا کرم ہوتا گیا۔
وَلَكُمْ فِيهَا، اور اگلا جملہ کوئی ملاحظہ کر لے:
وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ
وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ
ارے عطا کیوں نہ کروں؟ یہ جملہ بھی سنتے جاؤ۔ معنی، ترجمہ اس کا تھوڑا سا ہٹ کے کر رہا ہوں اپنے زاویے سے:
وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ
رب کہتا ہے، گویا کہ رب یوں کہہ رہا ہے: ارے عطا کیوں نہ کروں، جبکہ میں نے سب کچھ بنایا ہی تمہارے لیے ہے!
وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ
ارے عطا کیوں نہ کروں جبکہ سب کچھ بنا ہی تمہاری خاطر ہے! اب اللہ اپنے ولیوں کو یہ کہہ سکتا ہے، ہم اگر محمدِ عربی کو مقصودِ کائنات کہہ دیں تو فرق کیا پڑا؟
(مجمع: سبحان اللہ! سبحان اللہ! نعرۂ تکبیر! اللہ اکبر! ماشاء اللہ!)
[18:37]
عزیزانِ گرامی قدر! قرآنِ مجید کا یہ فرمان سماعت کر لینے کے بعد آئیے ذرا دیکھیں کہ یہ ولی ہوتا کیا ہے؟ قرآن نے جو لفظ استعمال کیا ہے اپنے دوستوں کے لیے دونوں مقامات پر، وہ فرمایا:
أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللّٰهِ
اور ادھر فرمایا:
نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ
توجہ ہے نا؟ کہہ دو ذرا جھوم کے: سبحان اللہ!
اولیاء اللہ نے اپنے دوستوں کے لیے استعمال… عربی زبان میں بڑے الفاظ استعمال ہوتے ہیں دوستوں کے لیے، لیکن ربِ ذوالجلال نے ان دونوں مقامات پر اپنے دوستوں کے لیے لفظِ اولیاء استعمال کیا۔ اور اولیاء عربی قواعد کی رو سے جمع ہے، اس کا واحد لفظِ ‘ولی’ ہے۔
اب ولی کیا ہے؟ اپنی زبان سے میں عرض نہیں کرتا، ولی کے متعلق اہلِ لغت کیا کہتے ہیں؟ کہ ولی کا لفظ ‘وَلْیٌ’ سے نکلا ہے۔ ولی کا معنی ہوتا ہے: القُرْبُ وَالدُّنُوُّ۔ ولی کہتے ہیں قرب کو اور نزدیکی کو۔ ایسا قرب، ایسی نزدیکی جہاں پہ دوریاں ختم ہو جاتی ہیں اور قرب کی انتہا ہو جاتی ہے۔ پھر یہ اس کا ہوتا ہے، وہ اس کا ہوتا ہے۔
[19:50]
اور اسی پر، اسی پر کلام کرتے ہوئے، اسی پر کلام کرتے ہوئے عارف باللہ حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی نقشبندی مجددی، اپنے پیر و مرشد کے دروازے پر جھکنے والا—یہ پہلی تفسیر ہے مفسرین کی صف کے اندر، پہلا مفسر ہے جس نے اپنی تفسیر کو لکھ کر اپنے پیر کے نام سے منسوب کر دیا۔ ہاں! انہوں نے کہا اپنا تو قاضی ثناء اللہ پانی پتی، تفسیر کا نام ‘مظہری’، اپنے پیر و مرشد مرزا مظہر جانِ جاناں کے نام سے منسوب کر دیا۔
یہ اس لفظِ ولی پر کلام کرتے ہوئے اس مقام پر فرماتے ہیں کہ عربی زبان میں لفظِ ولی کے کم از کم چار معنی ضرور ہوتے ہیں۔ کتنے؟ چار۔ اب دیکھتے جائیے کہ اہلِ لغت کی رو سے اس کا حال کیا ہے، اور پھر آنے والے اوقات میں اب یہ سنیں گے کہ اہلِ تصوف کی رو سے ولی کیا ہوتا ہے۔ اور حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی کی نظر ان چار معنوں تک گئی۔
[20:52]
آپ فرماتے ہیں الولی، اسی مقام پر آپ کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ لفظِ ولی:
الْوَلِيُّ اسْمٌ مِنْهُ بِمَعْنَى الْقَرِيبِ، وَبِمَعْنَى الْحُبِّ، وَبِمَعْنَى الْمُحِبِّ، وَبِمَعْنَى النَّصِيرِ، وَبِمَعْنَى الصَّدِيقِ۔
اہلِ لغت کی رو سے لفظِ ولی چار معنوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
فرماتے ہیں: الولی اسم منہ بمعنی القریب، اس کا پہلا معنی قرب کا ہے۔
اس کا دوسرا معنی محب کا ہے۔ توجہ ہے نا؟ اس کا دوسرا معنی محب کا ہے۔
قربان جائیں اس مقام پر پھر آقائے کونین کی زبان بھی حرکت میں آ جاتی ہے۔ آقا فرماتے ہیں یہ محب اس کا پہلا معنی ہے۔ یہ محب اس کا وہ معنی ہے جہاں سے ولایت کی ابتدا ہوتی ہے۔
لَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّىٰ أُحِبَّهُ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي…
ابھی کہتے ہیں میاں محمد شفیق چشتی کہ میرے پیر کا ہر لمحہ کرامت سے کم نہیں۔ ارے کرامت کیوں نہ ہو جبکہ سب کچھ رب اس کو عطا کرتا جا رہا ہے!
یہ فرمایا کہ الولی اسم منہ بمعنی القریب وبمعنی المحب، اس کا دوسرا معنی محب کا ہے اور محب اس کا پہلا درجہ ہے۔ کون سا؟ پہلا۔ توجہ ہے نا؟ پہلا درجہ۔ ذرا میرے ساتھ چلیے نا، آپ کو مزہ آئے گا۔
[22:20]
اس کا پہلا معنی محب کا ہے کہ جب بندہ کائنات کی ہر شے کو چھوڑ کر اس کی طرف بڑھتا ہے۔
حضور فرماتے ہیں:
وَمَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّىٰ أُحِبَّهُ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، الیٰ آخر الحدیث۔
آقائے کونین فرماتے ہیں: میرا رب کہتا ہے کہ میرا بندہ نوافل کے ذریعے سے میرا قرب حاصل کرتا ہے۔
ایمان سے کہنا، نوافل اس کے قبول ہو جاتے ہیں جو فرض کو چھوڑ کے آئے؟ شاید آپ کی توجہ نہ ہو۔ ارے اس کے نوافل قبول ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جس نے فرائض کو چھوڑا ہو۔ جو شریعتِ محمدی کا دامن تار تار کرے وہ رب کے دروازے پر قبول ہو ہی نہیں سکتا۔ جو نمازِ پنجگانہ کو چھوڑتا ہے، ساری ساری رات جاگتا ہے، پندرہ بیس عمرے کر کے آ جاتا ہے، محمدِ عربی کی سنتوں کو پسِ پشت ڈالتا ہے، اس کا نہ عمرہ قبول ہو سکتا ہے نہ اس کی ادا۔
(مجمع: نعرۂ تکبیر! اللہ اکبر! نعرۂ رسالت! یا رسول اللہ! نعرۂ حیدری! یا علی! حیدری! یا علی!)
[23:27]
آقائے کونین صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میرا رب کہتا ہے کہ بندہ میرا نوافل کے ذریعے سے میرا قرب حاصل کرتا ہے۔ زمانہ سو جاتا ہے، وہ مصلے پہ آ کے کھڑا ہو جاتا ہے۔ زمانہ نیند کی آغوش میں آ جاتا ہے اور وہ رب کی رحمت کی آغوش میں مزے لینے لگ جاتا ہے۔
لَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ۔
حضور فرماتے ہیں: میرا اللہ کہتا ہے بندہ میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے۔ میرا قرب حاصل کرنے کے لیے وہ چل پڑتا ہے، ساری ساری رات عبادت کے اندر مشغول رہتا ہے:
حَتَّىٰ إِذَا أَحْبَبْتُهُ
رب کہتا ہے: پہلے تو وہ محبت کرتا تھا، اب میں بھی اس سے محبت کرنے لگ گیا ہوں۔
(مجمع: نعرۂ تکبیر! اللہ اکبر! نعرۂ رسالت! یا رسول اللہ! نعرۂ تحقیق! حق چار یار!)
[24:19]
اگر زیادہ لمبا اور زیادہ جلدی جلدی نعرہ نہ لگایا جائے تو یہ بھی میرے اوپر ایک مہربانی ہو گی۔
عزیزانِ گرامی قدر! حضور فرماتے ہیں یہاں تک کہ رب کہتا ہے پھر میں اس بندے سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں۔ پہلے یہ بندہ محب تھا، اب رب محب ہے۔ اب کون ہے جاننے والا اس کا مرتبہ؟ پہلے تو بندہ تھا محبت کرنے والا، رب اس کا محبوب تھا۔ اب بندہ بندہ ہے، رب رب ہو کر اس کا محب ہوتا چلا جاتا ہے۔
پہلے یہ چاہتا تھا، اب وہ چاہتا ہے۔
پہلے یہ محبت کرتا تھا، اب وہ کرتا ہے۔
پہلے مرکز وہ تھا، اب مرکز یہ ہو چکا ہے۔
زمانہ کہتا ہے داتا علی ہجویری کے روضۂ اقدس پہ اتنی لوگوں کی بھیڑ کیسے ہو گئی؟ ہم کہتے ہیں آمنہ کے لال سے پوچھو، پہلے اس کا مرکز وہ تھا، اب اس کا مرکز یہ ہے۔
[25:16]
حَتَّىٰ إِذَا أَحْبَبْتُهُ فَكُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ
علماء بھی جھوم رہے ہیں، آپ بھی جھوم جائیں۔ رب کہتا ہے پھر ہم اپنی محبت اپنے محبوب کو خالی چھوڑ نہیں دیتے، پھر خالی نہیں کہ وہ جانے اس کا کام جانے۔ رب کہتا ہے پھر ہم رب ہو کر اس کے کان بن جاتے ہیں جس سے وہ سنا کرتا ہے۔ کوئی مولوی کا کلام نہیں ہے، آمنہ کے لال فرماتے ہیں میرے رب نے کہا:
فَكُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ
پھر میں رب ہو کر اس اپنے محبوب کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، میں اس بندے کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، پھر میں اس بندے کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، پھر میں اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چل کے جاتا ہے:
وَلِسَانَهُ الَّذِي يَتَكَلَّمُ بِهِ
رب کہتا ہے: پھر میں اس کی زبان بن جاتا ہوں جس سے وہ بولتا چلا جاتا ہے۔ بندے کی زبان ہوتی ہے، بولتا رب چلا جاتا ہے۔
وَلِسَانَهُ الَّذِي يَتَكَلَّمُ بِهِ۔
[26:16]
عزیزانِ گرامی قدر! قاضی ثناء اللہ پانی پتی کہتے ہیں اس کا تیسرا معنی…
الْوَلِيُّ اسْمٌ مِنْهُ بِمَعْنَى الْقَرِيبِ، وَبِمَعْنَى الْمُحِبِّ، وَبِمَعْنَى النَّصِيرِ۔
توجہ ہے نا؟ آپ نے توجہ نہیں رکھی۔
وَبِمَعْنَى النَّصِيرِ۔
پہلا معنی اس کے قرب کا ہے، دوسرا معنی اس کا محب کا ہے اور تیسرا معنی اس کا نصیر کا ہے کہ اللہ کا ولی وہ ہوتا ہے جو اللہ کی عطا سے اللہ کی مخلوق کا مددگار بن جاتا ہے۔ شاید آپ نے توجہ نہ کی ہو۔ اللہ کا ولی ہوتا ہی وہ ہے جو اللہ کی عطا سے اللہ کی مخلوق کا مددگار بن جاتا ہے۔
اور اگلا معنی بیان کر کے پھر میں اس پہ لوٹوں گا، توجہ کیجیے، اور پھر میں بولوں گا تو داتا گنج بخش علی ہجویری کی زبان سے، تاکہ آپ کو نصیر کا معنی سمجھ آ جائے۔
[27:13]
اور فرماتے ہیں قاضی ثناء اللہ پانی پتی اس کا چوتھا معنی صدیق کا ہے۔ اب صدیق عربی زبان میں دوست کو کہتے ہیں۔ تو پوچھیے ذرا علماء سے جو عربی جانتے ہیں، اب صدیق عام دوست کو کہا جاتا ہے؟ نہیں، صدیق کون سا دوست ہوتا ہے؟ صدیق اس دوست کو کہتے ہیں جن دو دوستوں کے درمیان صدیقیت کا مرتبہ قائم ہو جائے، ان کے جسم تو جدا ہوتے ہیں لیکن جان دونوں کی ایک ہو جاتی ہے۔ ان کا جسم الگ الگ ہوتا ہے لیکن دونوں کا نظریہ ایک ہوتا ہے، منشور ایک ہوتا ہے، دستور ایک ہوتا ہے، ہر بات ایک ہوتی ہے۔
[27:53]
اور اسی لفظِ ولی پر کلام کرتے ہوئے حضور داتا گنج بخش علی ہجویری—یہ چشتیوں کا امام ہے، خواجہ اجمیری نے بھی اس کو اپنا امام مانا—حضور داتا گنج بخش علی ہجویری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب ‘کشف المحجوب’ میں لکھا، لفظِ ولی پر کلام کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: عربی زبان کے اندر لفظِ ولی کے کم از کم آٹھ معنی ضرور ہوتے ہیں۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی کی نظر تو چار تک پہنچی، ہمارے داتا علی ہجویری کی نظر آٹھوں سے بھی اوپر پہنچی۔
حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری کشف المحجوب میں فرماتے ہیں: لفظِ ولی کے عربی زبان میں کم از کم آٹھ معنی ضرور ہوتے ہیں۔ خاص فرماتے، توجہ کیجیے۔ یہ جو میں توجہ کی بات کرتا ہوں نا بار بار، یہ جملے ہی ایسے ہوتے ہیں توجہ کیے بغیر سمجھ میں آ نہیں سکتے۔ تو بار بار جتن کرتا ہوں آپ کی توجہ کے لیے۔
حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری آٹھوں معنی لکھنے کے بعد کہتے ہیں: لفظِ ولی کے جتنے بھی معنی ہوں لغت میں، وہ حقیقی اعتبار سے اس ولی کی ذات میں موجود نہ ہوں تو ولی ولی نہیں ہوتا۔ کتنے بھی معنی ہو جائیں، ہر معنی اس کے اندر پایا جائے گا۔
[29:05]
یہ چار معنی لکھنے کے بعد داتا گنج بخش علی ہجویری فرماتے ہیں اس کا پانچواں معنی یہ ہے۔ آپ فرماتے ہیں پانچواں اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ کا ولی، اللہ کی عطا سے… اللہ کا ولی، اللہ کی عطا سے… ایک مرتبہ درود و سلام پڑھیے ذرا بلند آواز سے۔
(مجمع: الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا سَيِّدِي يَا رَسُولَ اللّٰهِ، وَعَلَىٰ آلِكَ وَأَصْحَابِكَ يَا سَيِّدِي يَا حَبِيبَ اللّٰهِ)
[29:34]
اللہ کا ولی، اللہ کی عطا سے، اللہ کی ساری کائنات کے اندر متصرف کرنے کا حق رکھتا ہے۔ شاید آپ سمجھے نہیں ہیں۔ آپ فرماتے ہیں لفظِ ولی کا پانچواں معنی یہ ہے کہ اللہ کا ولی وہ ہوتا ہے جو متصرف فی الکائنات ہوتا ہے۔ متصرف فی الکائنات کا معنی یہ ہے کہ رب کی اس پوری کائنات میں جس طرح وہ چاہے رب ویسے ہی کر دیتا ہے۔
[30:00]

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top