آنکھیں رو رو کے سُجانے والے

آنکھیں رو رو کے سُجانے والے


آنکھیں رو رو کے سُجانے والے
جانے والے نہیں آنے والے

 

کوئی دن میں یہ سرا اوجڑ ہے
ارے او چھاؤنی چھانے والے

 

سُن لیں اَعدا میں بگڑنے کا نہیں
وہ سلامت ہیں بنانے والے

 

آنکھیں کچھ کہتی ہیں تجھ سے پیغام
او درِ یار کے جانے والے

 

پھر نہ کروٹ لی مدینہ کی طرف
ارے چل جُھوٹے بہانے والے

 

نفس میں خاک ہوا تو نہ مِٹا
ہائے میری جان کے کھانے والے

 

جیتے کیا دیکھ کے ہیں اے حورو
طیبہ سے خُلد میں آنے والے

 

ساتھ لے لو مجھے میں مجرم ہوں
راہ میں پڑتے ہیں تھانے والے

 

ذبح ہوتے ہیں وطن سے بچھڑے
ڈالے کیوں گاتے ہیں گانے والے

 

ارے بد فَال بُری ہوتی ہے
ڈالے کا جنگلا سُنانے والے

 

حُسن تیرا سا نہ دیکھا نہ سُنا
کہتے ہیں اگلے زمانے والے

 

وہی دُھوم ان کی ہے ما شاء اللہ
مِٹ گئے آپ مِٹانے والے

 

کیوں رضاؔ آج گلی سُونی ہے
اُٹھ مرے دُھوم مچانے والے

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top