بےخود کیے دیتے ہیں ، انداز حجابانہ
بےخود کیے دیتے ہیں ، انداز حجابانہ
آ دل میں تجھے رکھ لوں ، اے جلوا ے جانانہ
اتنا تو کرم کرنا ، اے چشم کریمانہ
جب جان لبوں پر ہو ، تم سامنے آ جانا
دنیا میں مجھے تمنے ، جب بھی اپنا بنایا ہے
محشر میں بھی کہ دینا ، یہ ہے میرا دیوانہ
کیوں آنکھ ملائی تھی ، کیوں آگ لگائی تھی
اب رخ کو چھپا بیٹھے ، کرکے ہمیں دیوانہ
جی چاہتا ہے توہفے میں دوں انہیں یہ آنکھیں
درشن کا تو درشن ہو ، نذرانے کا نذرانہ
پینے کو تو پی لونگا ، پر عرض ذرا سی ہے
اجمیر کا ساکی ہو ، بغداد کا ہو میخَانہ
بِدم میری قسمت میں ، سجدے ہیں اسی در کے
چھوٹا ہے نہ چھوٹیگا ، سنگِ درِ جانانہ