آخری روزے ہیں دل غمناک مضطر جان ہے

آخری روزے ہیں دل غمناک مضطر جان ہے
حسرتا وا حسرتا اب چل دیا رمضان ہے

عاشقانِ ماہِ رمضان رو رہے ہیں پھوٹ کر
دل بڑا بے چین ہے افسردہ روح و جان ہے

الفراق و الفراق اے رب کے مہمان الفراق
الفراق و الفراق اے ماہِ رمضان الفراق
الوداع و الوداع تجھ کو ماہِ رمضان ہے

تیری فرقت میں دلِ عشاق ٹکڑے ہو گیا
اور سینہ چاک تیرے ہجر میں رمضان ہے

داستانِ غم سنائیں کس کو جا کر آہ ہم
یا رسول اللہ دیکھو چل دیا رمضان ہے

وقتِ افطار و سحر کی رونقیں ہوں گی کہاں
چند دن کے بعد یہ سارا سماں سنسان ہے

ہائے صد افسوس رمضان کی نہ ہم نے قدر کی
بے سبب ہی بخش دے یا رب کہ تو رحمان ہے

سب مسلماں الوداع کہتے ہیں رو رو کر تجھے
آہ چند گھڑیوں کا اب تو رہ گیا مہمان ہے

چند آنسو نذر ہیں بس اور کچھ پلے نہیں
نیکیوں سے آہ یہ خالی میرا دامن ہے

کاش آتے سال ہو عطار کو رمضان نصیب
کاش آتے سال ہو ہم سب کو بھی رمضان نصیب

یا نبی میٹھے مدینے میں بڑا ارمان ہے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top