اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی
جیسے میرے سرکار ہیں ایسا نہیں کوئی
تم سا تو حسیں آنکھ نے دیکھا نہیں کوئی
یہ شانِ لطافت ہے کہ سایہ نہیں کوئی
اے ظرفِ نظر! دیکھ مگر دیکھ ادب سے
سرکار کا جلوہ ہے تماشا نہیں کوئی
یہ طور سے کہتی ہے ابھی تک شبِ معراج
دیدار کی طاقت ہو تو پردہ نہیں کوئی
اعزاز یہ حاصل ہے تو حاصل ہے زمیں کو
افلاک پہ تو گنبدِ خضرا نہیں کوئی
ہوتا ہے جہاں ذکرِ محمد ﷺ کے کرم کا
اس بزم میں محرومِ تمنا نہیں کوئی
درمانِ غم و درد، شفاۓ دلِ بیمار
جز آپ کے اے جانِ مسیحا! نہیں کوئی
سرکار کی رحمت نے مگر خوب نوازا
یہ سچ ہے کہ خالد سا نکما نہیں کوئی