اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم

اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم
فقیروں کے حاجت روا غوث اعظم

گھرا ہے بلاؤں میں بندہ تمہارا
مدد کے لیے آؤ یا غوث اعظم

ترے ہاتھ میں ہاتھ میں نے دیا ہے
ترے ہاتھ ہے لاج یا غوث اعظم

مریدوں کو خطرہ نہیں بحرِ غم سے
کہ بیڑے کے ہیں ناخدا غوث اعظم

تمہیں دکھ سنو اپنے آفت زدوں کا
تمہیں درد کی دو دوا غوث اعظم

بھنور میں پھنسا ہے ہمارا سفینہ
بچا غوث اعظم، بچا غوث اعظم

جو دکھ بھر رہا ہوں جو غم سہ رہا ہوں
کہوں کس سے تیرے سوا غوث اعظم

زمانے کے دکھ درد کی رنج و غم کی
ترے ہاتھ میں ہے دوا غوث اعظم

اگر سلطنت کی ہوس ہو فقیرو
کہو شیئاً للہ یا غوث اعظم

نکالا ہے پہلے تو ڈوبے ہوؤں کو
اور اب ڈوبتوں کو بچا غوث اعظم

(باقی کلام اسی ترتیب سے جاری رہے گا)

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top