اے حبیب احمدِ مجتبیٰ! دلِ مبتلا کا سلام لو

اے حبیب احمدِ مجتبیٰ! دلِ مبتلا کا سلام لو
جو وفا کی راہ میں کھو گیا، اُسی گم شدہ کا سلام لو

میں طلب سے باز نہ آؤں گا، تو کرم کا ہاتھ بڑھائے جا
جو تیرے کرم سے ہے آشنا، اُسی آشنا کا سلام لو

کوئی مر رہا ہے بہشت پر، کوئی چاہتا ہے نجات کو
میں تُجھی کو چاہوں خدا کرے، میری اس دعا کا سلام لو

وہ حسین جس نے چھڑک کے خوں، چمنِ وفا کو ہرا کیا
اُسی جاں نثار کا واسطہ کہ ہر ایک گدا کا سلام لو

یہی رات دن ہے دعا میری کہ مروں تو تیرے دیار میں
یہی مدعاۓ حیات ہے، اِسی مدعا کا سلام لو

تیرے آستاں کی تلاش میں، تیری جستجو کے خیال میں
جو لٹا چکا ہے متاعِ دل، اُسی بے نوا کا سلام لو

تیرا نور ہو میرے سینے میں، ملے لطف مجھ کو بھی جینے میں
میری حاضری ہو مدینے میں، میری اس دعا کا سلام لو

یہ نظر ہمیشہ جھکی رہے، تیری یاد دل میں بسی رہے
میرے دل کی ہے یہی التجا، میری اس حیا کا سلام لو

تمام اولیا کے بلند سر ہیں قدم پہ جن کے جھکے ہوئے
اُسی پیارے غوث کا واسطہ کہ ہر ایک گدا کا سلام لو

نعت خواں:
واصف رضا نوری

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top