اے مصطفیٰ کے پھول دلوں جان یا حسین
کیجیے نہ اس بلا کو کربلا مرے حسین
دونوں صاحبزادوں کے تن ہاتھوں میں لے کر
کیا دی مثال صبر ہے دنیا کو یا حسین
ان لاکھوں کی لشکر دشمنوں کے سامنے
پردہ نہ چھوٹا آپ کے بیٹی کا یا حسین
عباس لے کے نکلے تھے پانی فرات سے
گھوڑے سے گر کے پانی ہوا خون یا حسین
پیاسے تیرے جوانوں پر لاکھوں سلام ہیں
قربان ہو کے دین پر اسلام دے دیا
کیا شان سے نبھایا ہے وعدہ حضور کا
شبیر حق کا شمع بچایا ہے آپ نے
باطل کو مٹایا کیا روشن دین کو
شمع کو روشن آپ نے خون سے کیا حسین
سجدے میں سر کو رکھا عصر کو ادا کیا
سر ہو گیا پھر تن سے جدا آپ کا حسین
درد دل حسین پر لاکھوں سلام ہیں
جس نے دیا ہے صبر کا پیغام یا حسین
نہ کرتو اپنی جان پر ستم اے ناصر ذرا
سوچ کربلا میں ہوئے قربان مرے حسین
شاعر: ناصر