اے شہنشاہِ مدینہ! الصلوٰۃ والسلام
زینتِ عرشِ معلیٰ! الصلوٰۃ والسلام
ربّی ہب لی اُمّتی کہتے ہوئے پیدا ہوئے
حق نے فرمایا کہ بخشا، الصلوٰۃ والسلام
دست بستہ سب فرشتے پڑھتے ہیں اُن پر درود
کیوں نہ ہو پھر ورد اپنا الصلوٰۃ والسلام
مومنو! پڑھتے رہو تم اپنے آقا پر درود
ہے فرشتوں کا وظیفہ الصلوٰۃ والسلام
بت شکن آیا یہ کہہ کر، سر کے بل بت گر گئے
جھوم کر کہتا تھا کعبہ الصلوٰۃ والسلام
سر جھکا کر باادب عشقِ رسول اللہ میں
کہہ رہا تھا ہر ستارہ الصلوٰۃ والسلام
غنچے چٹکے پھول مہکے چہچہائیں بلبلیں
گل کھلا باغِ احد کا الصلوٰۃ والسلام
میں وہ سنی ہوں، جمیلؔ قادری! مرنے کے بعد
میرا لاشہ بھی کہے گا الصلوٰۃ والسلام