فلک کے نظارو، زمیں کی بہارو

فلک کے نظارو، زمیں کی بہارو
سب عیدیں مناؤ، حضور آ گئے ہیں

اٹھو بے سہارو، چلو غم کے مارو
خبر یہ سناؤ، حضور آ گئے ہیں
حضور آ گئے ہیں، حضور آ گئے ہیں

انوکھا نرالا، وہ ذی شان آیا
وہ سارے رسولوں کا سلطان آیا
ارے کج کلاہو، ارے بادشاہو
نگاہیں جھکاؤ، حضور آ گئے ہیں

ہواؤں میں جذبات ہیں مرحبا کے
فضاؤں میں نغمات صل علیٰ کے
درودوں کے گجرے، سلاموں کے تحفے
غلامو سجاؤ، حضور آ گئے ہیں

سماں ہے ثنائے حبیب خدا کا
یہ میلاد ہے سرور انبیاء کا
نبی کے گداؤ، سب اک دوسرے کو
خبر یہ سناؤ، حضور آ گئے ہیں

کہاں میں ظہوریؔ، کہاں ان کی باتیں
کرم ہی کرم ہے، یہ دن اور راتیں
جہاں پر بھی جاؤ، دلوں کو جگاؤ
یہی کہتے جاؤ، حضور آ گئے ہیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top