حسبی ربی جلاللہ

 


حسبی ربی جلاللہ
معفی قلبی غیر اللہ
نورِ محمد ﷺ
لا الہ الا اللہ

تیرے صدقے میں آقا
سارے جہاں کو دین ملا
بدینوں نے کلمہ پڑھا
لا الہ الا اللہ

سمتِ نبی بو جہل گیا
آقا سے اُس نے یہ کہا
گر ہو نبی بتلاؤ ذرا
میری مٹھی میں ہے کیا

آقا کا فرمان ہوا
اور فضلِ رحمان ہوا
مٹھی سے کنکر بولا
لا الہ الا اللہ

دنیا کے انسان سبھی
شرک و بدعت کرتے تھے
رب کے تھے بندے پھر بھی
بت کی عبادت کرتے تھے

بت خانیں سب تھرائے
میرے نبی ہیں جب آئے
کہنے لگی مخلوقِ خدا
لا الہ الا اللہ

اپنی بہن سے بولے عمر
یہ تو بتا کیا کرتی تھی
میرے آنے سے پہلے
کیا چھپکے چھپکے پڑھتی تھی

بہن نے جب قرآن پڑھا
سن کے کلامِ پاکِ خدا
دل یہ عمر کا بول اٹھا
لا الہ الا اللہ

وہ جو بلالِ حبشی ہے
سرورِ دین کا پیارا ہے
دنیا کے ہر عاشق کی
آنکھوں کا وہ تارا ہے

ظلم ہوئے کتنے اُن پر
سینے پہ رکھا پتھر
پھر بھی زبان پر جاری تھا
لا الہ الا اللہ

یاد نہیں تمہیں وہ منظر
خواجہ نے جب خود چل کر
نویں(۹۰) لاکھ کو پڑھوایا
لا الہ الا اللہ

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top