ہوتا اگر زمین پر سایہ رسول کا
پھر پاؤں امتی کہاں رکھتا رسول کا
پڑھتے ہیں یوں تو غیر بھی کلمہ رسول کا
جنت اسے ملے گی جو ہوگا رسول کا
کرتے ہیں احترام جنازہ کا اس لیے
وہ جا رہا ہے دیکھنے چہرہ رسول کا
شیرِ خدا نہ بنتا تو بنتا بھی اور کیا
بچپن سے ہی تو تھا یہ پالا رسول کا
دنیا کو دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا
جب تک علی نے دیکھا نہ چہرہ رسول کا
خواجہ نے ایسا ڈنکا بجایا رسول کا
لگوایا پنڈتوں سے بھی نعرہ رسول کا
نعرہ رضا کا لگتا ہے دنیا میں اس لیے
احمد رضا کے لب پہ تھا نعرہ رسول کا
شاعر:
ساجد رضا
نعت خواں:
اسد رضا