اک بار مدینے میں ہو جائے میرا جانا
پھر اور نہ کچھ مانگے سرکار کا دیوانہ
اک بار مدینے میں ہو جائے میرا جانا
پل پل میرا دل تڑپے، دن رات کرے زاری
کب آؤں مدینے میں، کب آئے میری باری
کب جا کے میں دیکھوں گا دربار وہ شاہانہ
اک بار مدینے میں ہو جائے میرا جانا
اس آس پہ جیتا ہوں اک روز بلائیں گے
اور گنبد خضرٰی کا دیدار کرائیں گے
پھر پیش کروں گا میں اشکوں بھرا نذرانہ
اک بار مدینے میں ہو جائے میرا جانا
بیچین نگاہوں کو دیدار عطا کر دو
دامن میرا خوشیوں سے یا شاہ امم ! بھر دو
آباد خدا رکھے آقا ! تیرا میخانہ
اک بار مدینے میں ہو جائے میرا جانا
اتنی سی تمنا ہے، ہو جائے اگر پوری
جا دیکھوں مدینہ میں، ہو جائے جو منظوری
بن دید کیے شاہا ! مر جائے نہ دیوانہ
اک بار مدینے میں ہو جائے میرا جانا
شاعر: مولانا عبد الستار نیازی
نعت خواں: میلاد رضا قادری