ایک میں ہی نہیں اُن پر قُربان زمانہ ہے

 

ایک میں ہی نہیں اُن پر قُربان زمانہ ہے
ایک میں ہی نہیں اُن پر قُربان زمانہ ہے
جو ربِّ دو عالم کا محبوب یگانہ ہے

کل پُل سے ہمیں جس نے، خود پار لگانا ہے
زہرا کا وہ بابا ہے، حسنین کا نانا ہے

ایک میں ہی نہیں اُن پر قُربان زمانہ ہے
جو ربِّ دو عالم کا محبوب یگانہ ہے

آؤ درِ زہرا پر پھیلائے ہوئے دامن
ہے نسل کریموں کی، لجبال گھرانہ ہے

ایک میں ہی نہیں اُن پر قُربان زمانہ ہے
جو ربِّ دو عالم کا محبوب یگانہ ہے

عزت سے نہ مر جائیں، کیوں نامِ محمد پر
یوں ہی کسی دن ہم نے دنیا سے تو جانا ہے

ایک میں ہی نہیں اُن پر قُربان زمانہ ہے
جو ربِّ دو عالم کا محبوب یگانہ ہے

سرکارِ مدینہ کی ہوں پُشت پناہی میں
دنیا کی ہے کیا پرواہ، دشمن جو زمانہ ہے

ایک میں ہی نہیں اُن پر قُربان زمانہ ہے
جو ربِّ دو عالم کا محبوب یگانہ ہے

یہ کہہ کے درِ حق سے، لی موت میں کچھ مُہلت
میلاد کی آمد ہے، محفل کو سجانا ہے

ایک میں ہی نہیں اُن پر قُربان زمانہ ہے
جو ربِّ دو عالم کا محبوب یگانہ ہے

محرومِ کرم اِس کو رکھیے نہ سرِ محشر
جیسا ہے نصیر آخر، سائل تو پُرانا ہے

ایک میں ہی نہیں اُن پر قُربان زمانہ ہے
جو ربِّ دو عالم کا محبوب یگانہ ہے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top