اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا
جو کرم مجھ پہ میرے نبی کر دیا
میں سجاتا ہوں سرکار کی محفلیں
مجھ کو ہر غم سے رب نے بری کر دیا
اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا
ذکرِ سرکار کی ہے بڑی برکتیں مل گئی
راحتیں، عظمتیں، رفعتیں
میں گنہگار تھا، بےعمل تھا
مگر مصطفیٰ نے مجھے جنتی کر دیا
اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا
لمحہ لمحہ ہے مجھ پر نبی کی عطا
دوستو! اور مانگوں میں مولا سے کیا کیا
یہ کم ہے کہ میرے خدا نے مجھے
اپنے محبوب کا امتی کر دیا
اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا
جو درِ مصطفیٰ کے گدا ہو گئے
دیکھتے دیکھتے کیا سے کیا ہو گئے
ایسی چشمِ کرم کی ہے سرکار نے
دونوں عالم میں ان کو غنی کر دیا
اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا
جو بھی آئے ہیں محفل میں
سرکار کی حضوری مل گئی
ان کو دربار کی کوئی صدیق، فاروق، عثمان ہوا
اور کسی کو نبی نے علی کر دیا
اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا
کوئی مایوس لوٹا نہ دربار سے
جو بھی مانگا، ملا میرے سرکار سے
صدقے جاؤں، نیازی!
میں لجپال کے ہر گدا کو سخی نے سخی کر دیا
اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا
شاعر:
مولانا عبدالستار نیازی
نعت خوان:
میلاد رضا قادری