جب تک جیوں میں آقا! کوئی غم نہ پاس آئے
جو مروں تو ہو لحد پر تری رحمتوں کے سائے
ہیں خزاں نے ڈالے ڈیرے، مرجھا گئے ہیں سب گل
میرے اجڑے باغ میں پھر، آقا! بہار آئے
کبھی تھا، نہ ہے، نہ ہوگا، کوئی غم گسار ایسا
جو لحد میں بھی تھپک کر عشاق کو سلائے
درِ یار پر پڑا ہوں، اس اصول پر گرا ہوں
جو گرا ہوا ہو خود ہی، اسے کون اب گرائے
جسے مارا ہو غموں نے، جسے گھیرا ہو دکھوں نے
مرا مشورہ ہے اس کو، وہ مدینہ ہو کے آئے
کوئی غارِ ثور میں یوں بہ زبانِ حال بولے
نہ ہٹاؤں گا انگوٹھا، مری جان اگرچہ جائے
یہی آرزوئے دل ہے، تری بزم میں کسی دن
یہ ترا عبیدؔ آئے، تجھے نعت بھی سنائے