منور میری آنکھوں کو، مرے شمس الضحیٰ کر دیں
غموں کی دھوپ میں وہ سایۂ زلفِ دوتا کر دیں
جہاں بانی عطا کر دیں، بھری جنت ہبہ کر دیں
نبی مختارِ کل ہیں، جس کو جو چاہیں عطا کر دیں
جہاں میں ان کی چلتی ہے، وہ دم میں کیا سے کیا کر دیں
زمیں کو آسماں کر دیں، ثریا کو ثریٰ کر دیں
فضا میں اڑنے والے یوں نہ اترائیں، ندا کر دیں
وہ جب چاہیں، جسے چاہیں، اسے فرماں روا کر دیں
میری مشکل کو یوں آساں، مرے مشکل کشا! کر دیں
ہر اک موجِ بلا کو، مرے مولا! ناخدا کر دیں
عطا ہو بیخودی مجھ کو، خودی میری ہوا کر دیں
مجھے یوں اپنی الفت میں، مرے مولا! فنا کر دیں
جہاں میں عام پیغامِ شہِ احمد رضا کر دیں
پلٹ کر پیچھے دیکھیں پھر سے تجدیدِ وفا کر دیں
نبی سے جو ہو بیگانہ، اسے دل سے جدا کر دیں
پدر، مادر، برادر، مال و جاں ان پر فدا کر دیں
تبسم سے گماں گزرے شبِ تاریک پر دن کا
ضیائے رخ سے دیواروں کو روشن آئینہ کر دیں
کسی کو وہ ہنساتے ہیں، کسی کو وہ رلاتے ہیں
وہ یوں ہی آزماتے ہیں، وہ اب تو فیصلہ کر دیں
گلِ طیبہ میں مل جاؤں، گلوں میں مل کے کھل جاؤں
حیاتِ جاودانی سے مجھے یوں آشنا کر دیں
انہیں منظور ہے جب تک یہ دورِ آزمائش ہے
نہ چاہیں تو ابھی وہ ختم دورِ ابتلا کر دیں
سگِ آوارۂ صحرا سے اکتا سی گئی دنیا
بچاؤ اب زمانے کا سگانِ مصطفیٰ کر دیں
مجھے کیا فکر ہو اخترؔ! مرے یاور ہیں وہ یاور
بلاؤں کو میری جو خود گرفتارِ بلا کر دیں