جلوہ ہے نور ہے کہ سراپا رضا کا ہے

 

جلوہ ہے نور ہے کہ سراپا رضا کا ہے
جلوہ ہے نور ہے کہ سراپا رضا کا ہے
تصویرِ سنّیت ہے کہ چہرہ رضا کا ہے

وادی رضا کی کوہِ ہمالہ رضا کا ہے
جس سمت دیکھئے وہ علاقہ رضا کا ہے

دستار آ رہی ہے زمین پر جو سر اٹھے
اتنا بلند آج فریرا رضا کا ہے

کس کی مجال ہے جو نظر بھی ملا سکے
در بارِ مصطفیٰ میں ٹھکانہ رضا کا ہے

الفاظ بہہ رہے ہیں دلیلوں کی دھار پر
چلتا ہوا کلام ہے کہ دھارا رضا کا ہے

چھوٹا ہے آسماں کو مینارِ عزم کا
یعنی اٹل پہاڑ ارادہ رضا کا ہے

دریا فصاحتوں کے رواں شاعری میں ہے
یہ ساحلِ ممتنع ہے کہ لہجہ رضا کا ہے

جو لکھ دیا ہے اُس نے سند ہے وہ دین میں
اہلِ قلم کی آبرو نقطہ رضا کا ہے

اگلوں نے بھی لکھا ہے بہت علمِ دین پر
جو کچھ ہے اس صدی میں وہ تنہا رضا کا ہے

اس دورِ پُر فتن میں نظر خوش عقیدگی
سرکار کا کرم ہے وسیلہ رضا کا ہے

نعتیں جو پڑھ رہا ہوں میں عبید آج جھوم کر
سچ پوچھئے تو فیض یہ احمد رضا کا ہے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top