کچھ ایسا کر دے مرے کردگار آنکھوں میں
ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں
نہ کیسے یہ گل و غنچے ہوں خوار آنکھوں میں
بسے ہوئے ہیں مدینے کے خار آنکھوں میں
وہ نور دے مرے پروردگار آنکھوں میں
کہ جلوہ گر رہے رخ کی بہار آنکھوں میں
انہیں نہ دیکھا تو کس کام کی ہیں یہ آنکھیں
کہ دیکھنے کی ہے ساری بہار آنکھوں میں
فرشتو! پوچھتے ہو مجھ سے کس کی امت ہو
لو دیکھ لو یہ ہے تصویرِ یار آنکھوں میں
پیا ہے جامِ محبت جو آپ نے نوریؔ
ہمیشہ اس کا رہے گا خمار آنکھوں میں