لب پر نعتِ پاک کا نغمہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے

لب پر نعتِ پاک کا نغمہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
میرے نبی سے میرا رشتہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے

اور کسی جانب کیوں جائیں اور کسی کو کیوں دیکھیں
اپنا سب کچھ گنبدِ خضریٰ کل بھی تھا اور آج بھی ہے

پست وہ کیسے ہو سکتا ہے جس کو حق نے بلند کیا
دونوں جہاں میں ان کا چرچا کل بھی تھا اور آج بھی ہے

جس کے فیض سے بنجر سینوں نے شادابی پائی ہے
موج میں وہ رحمت کا دریا کل بھی تھا اور آج بھی ہے

بتلا دو یہ ہر دشمنِ دین کو غیرتِ مسلم زندہ ہے
دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے

ان کے در سے سب ہو آئے جا نہ سکا تو ایک صبیحؔ
یہ کہ ایک تصویرِ تمنا کل بھی تھا اور آج بھی ہے

جن آنکھوں سے طیبہ دیکھا وہ آنکھیں بیتاب ہیں پھر
ان آنکھوں میں ایک تقاضہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top