یہ مہر و ماہ ستاروں کی دلکشی کیا ہے

یہ مہر و ماہ ستاروں کی دلکشی کیا ہے
نبی کے حسن کے آگے یہ چاندنی کیا ہے

اگر ہے آنا تو آنا نبی کے روضے پر
اے موت تجھ کو بتاؤں گا زندگی کیا ہے

نبی کی نعت پڑھی جا رہی ہے محفل میں
ذرا بتائیے لب پر یہ خاموشی کیا ہے

نبی کے شہر میں جنت تلاش کرتا ہے
ذرا مجھے تو بتا اس جگہ کمی کیا ہے

نبی کے عشق نے لفظوں کو کر دیا انمول
نبی کی نعت ہے ورنہ یہ شاعری کیا ہے

ہے جس کے مولا نبی، اس کے ہیں علی مولا
اب اس میں اور سمجھنا ہے کیا، علی کیا ہے

لگا کے تخت کو ٹھوکر کہا یہ شاہوں نے
تیری گدائی کے آگے شہنشاہی کیا ہے

نبی کا عشق نہیں دل میں، ہے ایمان کیسا
نبی کا ذکر نہیں ہو تو بندگی کیا ہے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top