زمیں میلی نہیں ہوتی، زماں میلا نہیں ہوتا

زمیں میلی نہیں ہوتی، زماں میلا نہیں ہوتا
محمد کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا

محبت کم لی والے سے وہ جذبہ ہے سنو، لوگو!
یہ جس من میں سما جائے، وہ من میلا نہیں ہوتا

نبی کے پاک لنگر پر جو پلتے ہیں کبھی ان کی
زباں میلی نہیں ہوتی، سخن میلا نہیں ہوتا

گلوں کو چوم لیتے ہیں سحر نم شبنمی قطرے
نبی کی نعت سن لیں تو چمن میلا نہیں ہوتا

جو نامِ مصطفیٰ چومیں، نہیں دُکھتی کبھی آنکھیں
پہن لے پیار جو ان کا، بدن میلا نہیں ہوتا

تجوری میں جو رکھا ہے سیاہی آ ہی جاتی ہے
بٹے جو نام پر ان کے وہ دھن میلا نہیں ہوتا

نبی کا دامنِ رحمت پکڑ لو، اے جہاں والو!
رہے جب تک یہ ہاتھوں میں، چلن میلا نہیں ہوتا

میں نازاں تو نہیں فن پر مگر، ناصر! یہ دعویٰ ہے
ثناء مصطفیٰ کرنے سے فن میلا نہیں ہوتا

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top