Urdu (اُردُو)
آج مسلم تیرا مہمان چل دیا
ختم روزے ہوئے رمضان چل دیا
چھوڑ کر رہنما کارواں چل دیا
آج مسلم تیرا مہمان چل دیا
وقت جس وقت آتا تھا افطار کا
ایک بادل برستا تھا انوار کا
صدقہ بٹتا تھا بطحیٰ کے سرکار کا
آج مسلم تیرا مہمان چل دیا
مسجدوں میں وہ نورِ چراغاں کہاں
وہ تراویح کہاں وردِ قرآن کہاں
سال بھر ہم کہاں اور یہ مہمان کہاں
آج مسلم تیرا مہمان چل دیا
مسجدوں میں وہ رونق نہ جب پائیں گے
غمزدہ ہو کے دل تھام رہ جائیں گے
سال بھر اشک آنکھوں سے برسائیں گے
آج مسلم تیرا مہمان چل دیا