Urdu (اُردُو)
آقا کو پکار بندے آقا پکار
ان شاء اللہ ہو جائے گا تیرا بیڑا پار
آقا کو پکار بندے
ان کے ہاتھ میں کل کنجی ہے
رب نے انہیں مختار کیا
ہم کو ان کا منگتا بنایا
اور انہیں سرکار کیا
جو سرکار کے در کا گدا ہے
وہ خود ہے مختار
آقا کو پکار بندے
کیا کہنا دربارِ نبی کا
اس کی شان ہی عالی ہے
ہرگز نہ محروم وہ لوٹا
اس در کا جو سوالی ہے
آؤ چلیں اب سوئے مدینہ
چھوڑ کے سب دربار
آقا کو پکار بندے
اعلیٰ حضرت نے یارو یہ
سبق ہمیں سکھلایا ہے
جو گستاخِ خدا و نبی ہے
اپنا نہیں وہ پرایا ہے
ہائے ایسے گستاخوں پر
مولا کی ہے پھٹکار
آقا کو پکار بندے
کیوں غمگین ہے تو اے سید
در پر وہ بلوائیں گے
رنج و غم سب دور کریں گے
سوئے بھاگ جگائیں گے
اور بھی کوئی ان کے سوا ہے
دکھیوں کا غم خوار
آقا کو پکار بندے
اپنی تو پہچان یہی ہے
اپنی تو ہے شان یہی
دامن میں کچھ اور نہیں ہے
دل میں ہے ارمان یہی
اتنی پڑھوں میں ان کی نعتیں
راضی ہو سرکار
آقا کو پکار بندے
یادِ نبی میں تو اے رضوی
ان کی مدحت کرتا جا
دیواروں کا دل بھر آئے
جھوم کے نعت پڑھتا جا
جلد مدینہ جائے گا تو
لگتے ہیں یہ آثار
آقا کو پکار بندے