آمنہ کا جیا ہے گود میں حلیمہ کے
دیکھو چاند اترا ہے گود میں حلیمہ کے
واری واری جاتی ہے مصطفیٰ کے قدموں پر
دو جہاں کا دولہا ہے گود میں حلیمہ کے
آمنہ کا جیا ہے گود میں حلیمہ کے
دیکھو چاند اترا ہے گود میں حلیمہ کے
جھک گیا ہے خود کعبہ آمدِ پیغمبر کے
کعبہ کا بھی ہے کعبہ گود میں حلیمہ کے
ہر ادا نرالی ہے مصطفیٰ کے بچپن کی
معجزاتوں والا ہے گود میں حلیمہ کے
چاند ایک کھلونا ہے جس کے دستِ اقدس کا
وہ شہنشاہ آیا ہے گود میں حلیمہ کے
سینہ شق ہوا جس کا دل دھلا ہے زمزم سے
ایسا ایک بچہ ہے گود میں حلیمہ کے
فرش بھی فدا جس پر عرش بھی فدا جس پر
ایسا ماہِ طیبہ ہے گود میں حلیمہ کے
جن کے نوری چہرے سے دنیا ہو گئی روشن
وہ اجالا پھیلا ہے گود میں حلیمہ کے
چاند تارے شرمائیں دیکھ کر رخِ روشن
نور کا وہ تارا ہے گود میں حلیمہ کے
اجڑا تھا اجاگر گھر بس گیا حلیمہ کا
جب سے نور آیا ہے گود میں حلیمہ کے