آؤ اہل شریعت پڑھائیں تمہیں
آؤ اہل منظر سنائیں تمہیں
وقت ہو جائے گا دم نکل جائے گا
عمر تھم جائے گی سانس رک جائے گا
قبر میں نفسی نفسی کرے گا جہاں
کوئی نہ کسی کا مونس رہے گا وہاں
آؤ اہل شریعت بتائیں تمہیں
اہل منظر عذابِ قبر بتائیں تمہیں
ایک یہ دن ہے کل وہ دن بھی آئے گا
دنیا جیسی کی تیسی پلٹ جائے گا
اس کی آغوش میں جا کر ہوش آ جائے گا
منکر نکیر آ جائے گا قبر ہل جائے گا
قبر میں نفسی نفسی جہاں
کوئی نہ کسی کا اپنا رہے گا وہاں
ہو جو مومن تو پھر ہے کیا پھر بات
کرے گا نورِ رسول میں طے وہ پل صراط
امتِ رسول جو ہوگا وہاں
نور ہی نور اس پر ہوگا وہاں
آؤ اہل شریعت سنائیں تمہیں
اہل منظر کیا ہوگا یہ بتائیں تمہیں