مرحبا مرحبا مرحبا
مرحبا شریکۃالحسین ع
آپ پر سلام زینب آپ پر سلام زینب
بعد شہِ کربلا آپ نے پورا کیا
کتنا بڑا کام زینب آپ پر سلام زینب
ماں سے جو کیا تھا وعدہ خوب وہ نبھایا
ساتھ ساتھ بھائی کے رہی ہیں بن کے سایہ
کام جو کوئی نہ کر سکا وہ کر دکھایا
کربوبلا بھائی نے، فتح کی اور آپ نے
فتح کیا شام زینب آپ پر سلام زینب
قتل ہو چکا علی ع کا لال جب فرات پر
بی بیوں کے بین چھا رہے تھے کائنات پر
ساری ذمہ داریاں اٹھائی اپنی ذات پر
بی بیاں گھبرا گئیں، پہرے پہ آپ آگئیں
جب جلے خیام زینب آپ پر سلام زینب
مسلے شاہِ دیں ع نگاہیں ظلم سے ملائی تھیں
فوجے جس گھڑی خیام لوٹنے کو آئی تھیں
عابدِ حزیں ع کو آپ ہی بچا کے لائی تھیں
دیکھ کے یہ حوصلہ، کہہ رہے تھے مرحبا
خود شہِ انام ع زینب آپ پر سلام زینب
کیسے کیسے امتحان بی بی س آپ نے دیے
کربلا کے دشت سے اسیر ہو کے جب چلے
آپ ہی تو اسرا تھیں اہل بیت ع کے لیے
غم میں گرفتار تھیںہائے پھر بھی علمدار تھیں
کربلا سے شام زینب آپ پر سلام زینب
کیوں نہ احترام آپ کا ہو خاص و عام میں
آپ ہیں شریکِ کار مقصد امام ع میں
پہلی مجلسِ حسین ع وہ بھی قیدِ شام میں
کوئی نہیں ہو سکا، بانی فرشِ عزا
صرف ہے ایک نام زینب آپ پر سلام زینب
زندگی کو وقف کر دیا خدا کے نام پر
دونوں لاڈلے فدا کیے وفا کے نام پر
ایک ایک عشک شاہِ کربلا ع کے نام پر
خطبہ کچھ ایسے دیاہاں ظلم کو رسوا کیا
ہے یہ صدا عام زینب آپ پر سلام زینب
بھائیوں کو ہر گھڑی رکھا دعا کے سائے میں
آپ کا یہ صبر و حوصلہ جفا کے سائے میں
ہے خدا کا دین آپ کی ردا کے سائے میں
شکریہ کہتے رہیں، آپ کو سجدہ کریں
آپ کے غلام زینب آپ پر سلام زینب
آپ کی عطا جو ہو تو چھو لیں آسمان سب
سارے ذاکرین نوحہ خوان و سوز خوان سب
میثم اور مظہر عابدیؔ کریں بیان سب
کار نمایاں سبھی، آپ کی لاچارگی
آپ کا مقام زینب آپ پر سلام زینب