اب تو بس ایک ہی دھن ہے کہ مدینہ دیکھوں

آخری عمر میں کیا رونقِ دنیا دیکھوں
یہی دھن ہے، یہی دھن ہے

یہی دھن ہے، یہی دھن ہے

یہی دھن ہے مدینہ دیکھوں ایک بار
یہی دھن ہے مدینہ دیکھوں ایک بار

آخری عمر میں کیا رونقِ دنیا دیکھوں
اب تو بس ایک ہی دھن ہے کہ مدینہ دیکھوں

جالیاں دیکھوں کہ دیوار و در و بامِ حرم
اپنی معذور نگاہوں سے میں کیا کیا دیکھوں

اب تو بس ایک ہی دھن ہے کہ مدینہ دیکھوں

میں کہاں ہوں یہ سمجھ لوں تو اٹھاؤں نظریں
دل جو سنبھلے تو میں پھر گنبدِ خضریٰ دیکھوں

اب تو بس ایک ہی دھن ہے کہ مدینہ دیکھوں

میرے مولا! میری آنکھیں مجھے واپس کر دے
تاکہ اس بار میں جی بھر کے مدینہ دیکھوں

اب تو بس ایک ہی دھن ہے کہ مدینہ دیکھوں

کاش اقبال یونہی عمر بسر ہو میری
صبح کعبے میں ہو تو شام کو طیبہ دیکھوں

اب تو بس ایک ہی دھن ہے کہ مدینہ دیکھوں

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top