اے سبز گنبد والے! منظور دعا کرنا
جب وقتِ نزع آئے، دیدار عطا کرنا
اے نورِ خدا! آ کر آنکھوں میں سما جانا
یا در پہ بلا لینا، یا خواب میں آ جانا
اے پردہ نشیں! دل کے پردے میں رہا کرنا
جب وقتِ نزع آئے، دیدار عطا کرنا
میں قبر اندھیری میں گھبراؤں گا جب تنہا
امداد میری کرنے آ جانا، میرے آقا!
روشن میری تربت کو، اے نورِ خدا! کرنا
جب وقتِ نزع آئے، دیدار عطا کرنا
مجرم ہوں جہاں بھر کا، محشر میں بھرم رکھنا
رسوا زمانہ ہوں، دامن میں چھپا لینا
مقبول دعا میری، محبوبِ خدا! کرنا
جب وقتِ نزع آئے، دیدار عطا کرنا
چہرے سے ضیا پائی ان چاند ستاروں نے
اس در سے شفا پائی دکھ درد کے ماروں نے
آتا ہے انہیں، صابرؔ! ہر دکھ کی دوا کرنا
جب وقتِ نزع آئے، دیدار عطا کرنا