آنکھیں بھگو کر دل کو ہلا کر چلے گئے

آنکھیں بھگو کر دل کو ہلا کر چلے گئے

 

آنکھیں بھگو کر دل کو ہلا کر چلے گئے
ایسے گئے کہ سبکو رُلا کر چلے گئے

اِفتا کی شان المو درکا وقار تھے
سادہ مزاج دل کا دل کی بہار تھے

 

محفل ہر ایک سنی بنا کر چل گئے
ایسے گئے کہ سبکو رُلا کر چلے گئے

عمر تمام دن کی خدمت میں کات دی
اپنے قلم سے کفر کی تاریخ چھاٹ دی

 

حکم شریعت ہم کو بتا کر چلے گئے
ایسے گئے کہ سبکو رُلا کر چلے گئے

دینِ نبی کی خدمتِ مقبول ہو گئی
سینوں میں انکی الفت محبوب ہو گئی

 

دیوانا اپنے سبکو بنا کر چلے گئے
ایسے گئے کہ سبکو رُلا کر چلے گئے

کے اعلان شہری جس نے بہدی کو دے دیا
اور پھر جلوسِ پاک بھی عطا کیا

 

تحریک کیسی کیسی چلا کر چلے گئے
ایسے گئے کہ سبکو رُلا کر چلے گئے

سلطان اسلم بھی سایہ نشان تھا
اور ہر ہر ایک لہجہ سے جو بہدی کی جان تھا

 

کیسا پہاڑ آجم کا گرا کر چلے گئے
ایسے گئے کہ سبکو رُلا کر چلے گئے

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top