اے صبا! مصطفیٰ سے کہہ دینا، غم کے مارے سلام کہتے ہیں

اے صبا! مصطفیٰ سے کہہ دینا، غم کے مارے سلام کہتے ہیں
یاد کرتے ہیں تم کو شام و سحر، دل ہمارے سلام کہتے ہیں

اللہ! اللہ! حضور کی باتیں، مرحبا رنگ و نور کی باتیں
چاند جن پر نثار ہوتا ہے، اور تارے سلام کہتے ہیں

اے صبا! مصطفیٰ سے کہہ دینا، غم کے مارے سلام کہتے ہیں

جب محمد کا نام آتا ہے، رحمتوں کا پیام آتا ہے
لب ہمارے درود پڑھتے ہیں، دل ہمارے سلام کہتے ہیں

اے صبا! مصطفیٰ سے کہہ دینا، غم کے مارے سلام کہتے ہیں

اللہ! اللہ! حضور کے گیسو، بھینی بھینی مہکتی وہ خوشبو
جن سے معمور ہے فضا ہر سو، وہ نظارے سلام کہتے ہیں

اے صبا! مصطفیٰ سے کہہ دینا، غم کے مارے سلام کہتے ہیں

زائرِ طیبہ تو مدینے میں، پیارے آقا سے اتنا کہہ دینا
آپ کی گردِ راہ کو آقا! بے سہارے سلام کہتے ہیں

اے صبا! مصطفیٰ سے کہہ دینا، غم کے مارے سلام کہتے ہیں

ذکر تھا آخری مہینے کا، تذکرہ چھڑ گیا مدینے کا
حاجیو! مصطفیٰ سے کہہ دینا، غم کے مارے سلام کہتے ہیں

اے صبا! مصطفیٰ سے کہہ دینا، غم کے مارے سلام کہتے ہیں

 

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top