بختِ خفتہ نے مجھے روزے پہ جانے نہ دیا
چشم و دل سینے کلیجے سے لگانے نہ دیا
آہ! قسمت مجھے دنیا کے غموں نے روکا
ہائے! تقدیر کہ طیبہ مجھے جانے نہ دیا
اتنا کمزور کیا ضعفِ قویٰ نے مجھ کو
پاؤں تو پاؤں مجھے سر بھی اُٹھانے نہ دیا
کبھی بیمارِ محبت بھی ہوئے ہیں اچھے
روز افزوں ہے مرض، کام دوا نے نہ دیا
شربتِ دیدار نے اور آگ لگا دی دل میں
تپشِ دل کو بڑھایا ہے بجھانے نہ دیا
اب کہاں جائے گا نقش تیرا میرے دل سے
تہہ میں رکھا ہے اِسے، دل نے گمانے نہ دیا
میرے اعمال کا بدلہ تو جہنم ہی تھا
میں تو جاتا، مجھے سرکار نے جانے نہ دیا
نفسِ بدکار نے دل پہ یہ قیامت توڑی
عمل نیک کیا بھی تو چھپانے نہ دیا
اور چمکتی سی غزل کوئی پڑھو اے نوری
رنگ اپنا ابھی جمنے، شعرا نے نہ دیا