بلغ العلی بکمالہ

بلغ العلی بکمالہ
کشف الدجی بجمالہ
حسنت جمیع خصالہ
صلوا علیہ وآلہ۔

نہ کہیں سے دور ہیں منزلیں
نہ کوئی قریب کی بات ہے
جسے چاہیں اس کو نواز دیں
یہ درِ حبیب کی بات ہے۔

جسے چاہا در پہ بلا لیا
جسے چاہا اپنا بنا لیا
یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے
یہ بڑے نصیب کی بات ہے۔

وہ خدا نہیں، بخدا نہیں
مگر وہ خدا سے جدا نہیں
وہ ہیں کیا، مگر وہ کیا نہیں
یہ محبِ حبیب کی بات ہے۔

ترے حسن سے، تری شان تک
ہے نگاہ و عقل کا فاصلہ
ذرا بعید کا ذکر ہے
وہ ذرا فریب کی بات ہے یہ۔

وہ مچل کے راہ میں رہ گئی
یہ تڑپ کے در سے لپٹ گئی
وہ کسی امیر کی آہ تھی،
یہ کسی غریب کی بات ہے۔

میں بروں سے لاکھ برا سہی
مگر ان سے ہے میرا واسطہ
میری لاج رکھنا میرے خدا
یہ تیرے حبیب کی بات ہے۔

تجھے اے منور بے نوا
درِ شاہ سے چاہیے اور کیا
جو نصیب ہو کبھی سامنا
تو بڑے نصیب کی بات ہے۔

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top