بےخود کیے دیتے ہیں اندازِ حجابانہ

 

بےخود کیے دیتے ہیں اندازِ حجابانہ
بےخود کیے دیتے ہیں اندازِ حجابانہ
اے دل میں تجھے رکھ لوں، اے جلوۂ جانانہ !

اتنا تو کرم کرنا، اے چشمِ کریمانہ !
جب جان لبوں پر ہو، تم سامنے آ جانا

کیوں آنکھ ملائی تھی، کیوں آگ لگائی تھی
اب رُخ کو چھپا بیٹھے کر کے مجھے دیوانہ

جی چاہتا ہے تحفے میں بھیجوں میں انہیں آنکھیں
درشن کا تو درشن ہو، نظرانے کا نظرانہ

کیا لطف ہو محشر میں، قدموں میں گرُوں اُن کے
سرکار کہیں دیکھو، دیوانہ ہے دیوانہ !

کیا لطف ہو محشر میں میں شکوے کیے جاؤں
وہ ہنس کے کہے جائیں دیوانہ ہے دیوانہ

میں ہوش و حواس اپنے اس بات پہ کھو بیٹھا
جب تو نے کہا ہنس کے، آیا میرا دیوانہ

پینے کو تو پی لوں گا، پر عرض ذرا سی ہے
اجمیر کا ساقی ہو، بغداد کا مےخانہ

بےدم! میری قسمت میں چکر ہیں اسی در کے
چھوٹا ہے نہ چھوٹے گا مجھ سے درِ جانانہ

ساقی تیرے آتے ہی یہ جوش ہے مستی کا
شیشے پہ گرا شیشہ، پیمانے پہ پیمانہ

معلوم نہیں، بےدم! میں کون ہوں اور کیا ہوں
یوں اپنوں میں اپنا ہوں، بیگانوں میں بیگانہ

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top