حالِ دل کس کو سنائیں، آپ کے ہوتے ہوئے
کیوں کسی کے در پہ جائیں، آپ کے ہوتے ہوئے
میں غلامِ مصطفیٰ ہوں، یہ میری پہچان ہے
غم مجھے کیوں کر ستائیں، آپ کے ہوتے ہوئے
اپنا جینا، اپنا مرنا اب اسی چوکھٹ پہ ہے
ہم کہاں، سرکار! جائیں، آپ کے ہوتے ہوئے
کہہ رہا ہے آپ کا رب ‘انت فیہم’ آپ سے
کیوں انہیں میں دوں سزائیں، آپ کے ہوتے ہوئے
سامنے ہے، اے علی کے لال! اسوہ آپ کا
کیوں کسی کا خوف کھائیں، آپ کے ہوتے ہوئے
میں یہ کیسے مان جاؤں! شام کے دربار میں
چھین لے کوئی ردائیں، آپ کے ہوتے ہوئے
یہ تو ہو سکتا نہیں! یہ بات ممکن ہی نہیں!
میرے گھر آلام آئیں، آپ کے ہوتے ہوئے
کون ہے، الطاف! اپنا حالِ دل جس سے کہیں
زخمِ دل کس کو دکھائیں، آپ کے ہوتے ہوئے