جب نظر اٹھی نبی کی آسماں کے سامنے

جب نظر اٹھی نبی کی آسماں کے سامنے
چاند شرمانے لگا شمس الضحیٰ کے سامنے

گر اشارہ حضرتِ شبیر فرماتے وہاں
زمزم و کوثر ابلتے کربلا کے سامنے

ہاتھ اٹھا کر جب مرے سرکار نے کی ہے دعا
ڈوبا سورج آ گیا مشکل کشا کے سامنے

راحتیں تسکین میں سب غم مرے ڈھلنے لگے
آ نہیں سکتی بلا، ماں کی دعا کے سامنے

جب زباں سے “قم باذنی” آپ نے فرما دیا
مردہ زندہ ہو گیا غوث الوریٰ کے سامنے

نوے لاکھوں پہ ولایت کی نظر جب ڈال دی
سب مسلماں ہو گئے خواجہ پیا کے سامنے

ہم گنہگاروں کا اجملؔ یہ دلی ارمان ہے
کاش پڑھتے نعت ہم نورِ خدا کے سامنے

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top