ہم درِ یار پہ دل اپنا جھکا لیتے ہیں

ہم درِ یار پہ دل اپنا جھکا لیتے ہیں
سچ بتانا اے دنیا، تیرا کیا لیتے ہیں

پتھرو تم تو ہو پتھر اور میرے آقا
تم سے گر چاہیں تو کلمہ بھی پڑھا لیتے ہیں

وقت کی قید نہیں ہے یہ کرم کی باتیں
جب بھی سرکار کی مرضی ہو بلا لیتے ہیں

اس کو آنکھوں میں بٹھاتے ہیں زمانے والے
جس کو محبوبِ خدا اپنا بنا لیتے ہیں

جب نہیں ملتی کہیں سے بھی سکوں کی دولت
تیری محفل تیرے دیوانے سجا لیتے ہیں

جب سے دیکھا ہے نیازیؔ وہ ریاض الجنہ
ہم تو گھر بیٹھ کے جنت کی ہوا لیتے ہیں

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top