جوگن ہوں تورے دربار کی

قادری دھرتی ہے بابا میری عزت میری
ترے ہی نام کا صدقہ ہے یہ شہرت میری
ترے ہی نام کا نصرت کو سہارا بابا
ترے ہی نام کے صدقے سے ہے شہرت میری

اے دیوانو ضرور کر لو زیارت مرے بابا کی
خدا کے نور کا مظہر ہے صورت مرے بابا کی
علی کے لال ہیں بابا، نبی کی آل ہیں بابا
بدل دیتی ہے تقدیریں یہ نسبت مرے بابا کی
ہزاروں بادشاہ آئے گئے ہر سلطنت بدلی
نہ بدلی ہے نہ بدلے گی حکومت مرے بابا کی

سَیّاں نگر کی پوچھت موہے کون تِہارو ور ہے
لاج کی ماری کہ نہ سکوں میں ور مرا گنجِ شکر ہے

کوئی کسی کا، کوئی کسی کا
اور میں جوگن ہوں بابا توری

جوگن ہوں تورے دربار کی
بابا دل میں لگن ہے تورے پیار کی

اِت اُت بھٹکت عمر گنوائی
سُکھ کاٹے بنا رستہ دکھائی

بپتا کی ماری تورے چرنوں میں آئی
پاؤں لگوں بھی تو میں نہیں چلوں گی بابا

تیرا در چھوڑ کے میں کہاں جاؤں گی
خدا نے دیا ہے مجھے تیرا در

خَس خَس جیہڑا قدر نوں وِیہڑا
مرے بابا نوں وَڈَیایئاں
میں کدیان دا روڑا کوڑا
میں نوں محل چڑھایا سَیّاں
میں نیویں، مرا بابا اونچا
اونچیاں دے سنگ لائی
صدقے جاواں اِنہاں اونچیاں توں
جیہنا نیویاں نال نبھائی
اکو ای تیری اوٹ ہے بابا
ہور نہیں کجھ سُجھدا

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top