نہ کرو جدا خدایا مجھے اپنے آستاں سے

نہ کرو جدا خدایا مجھے اپنے آستاں سے
نہ ملے گا پھر سہارا جو اٹھا دیا یہاں سے

یہی میری بندگی ہے یہی میری سجدہ ریزی
کہ ذرا لپٹ کے رو لوں تیرے سنگِ آستاں سے

تو ہزار بار ٹھکرا میرا سر یہیں جھکے گا
میرے دل میں ہے محبت تیرے سنگِ آستاں سے

مجھے خاک میں ملا کر میری خاک بھی اڑا دے
تیرے نام پر مٹا ہوں مجھے کیا غرض نشاں سے

نہ ہو پاس ان کا پردہ نہ یہ پردہ داریاں ہوں
میری دکھ بھری کہانی جو سنے میری زباں سے

اس خاکِ آستاں میں ایک دن فنا بھی ہوگا
کہ بنا ہوا ہے بیدم اسی خاکِ آستاں سے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top