پیروں کے آپ پیر ہیں یا غوث! المدد

پیروں کے آپ پیر ہیں، یا غوث! المدد
اہلِ صفا کے میر ہیں، یا غوث! المدد

رنج و الم کثیر ہیں، یا غوث! المدد
ہم عاجز و اسیر ہیں، یا غوث! المدد

ہم کیسے جی رہے ہیں یہ تم سے کیا کہیں
ہم ہیں، الم کے تیر ہیں، یا غوث! المدد

تیـرِ نظر سے پھیر دو سارے الم کے تیر
کیا یہ الم کے تیر ہیں، یا غوث! المدد

ترے ہی ہاتھ لاج ہے، یا پیرِ دستگیر!
ہم تجھ سے دست گیر ہیں، یا غوث! المدد

ادفع شرارِ شر، یا غوثنل ابر
شر کے شرر خطیر ہیں، یا غوث! المدد

کس دل سے ہو بیانِ بےدادِ ظالماں
ظالم بڑے شریر ہیں، یا غوث! المدد

اہلِ صفا نے پائی تم سے رہِ صفا
سب تم سے مستنیر ہیں، یا غوث! المدد

صدقہ رسولِ پاک کا جھولی میں ڈال دو
ہم قادری فقیر ہیں، یا غوث! المدد

دل کی سُنائے اختر دل کی زبان میں
کہتے یہ بہتے نیر ہیں، یا غوث! المدد

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top