زندگی یہ نہیں ہے کسی کے لیے

زندگی یہ نہیں ہے کسی کے لیے
زندگی ہے نبی کی نبی کے لیے

ناسمجھ مرتے ہیں زندگی کے لیے
جینا مرنا ہے سب کچھ نبی کے لیے

انت فیہم کے دامن میں منکر بھی ہیں
ہم رہیں عشرتِ دائمی کے لیے

عیش کرلو یہاں منکروں چار دن
مرکے ترسو گے اس زندگی کے لیے

داغِ عشقِ نبی لے چلو قبر میں
ہے چراغِ لحد روشنی کے لیے

نقشِ پائے سگانِ نبی دیکھیے
یہ پتہ ہے بہت رہبری کے لیے

مسلکِ اعلیٰ حضرت سلامت رہے
ایک پہچان دینِ نبی کے لیے

مسلکِ اعلیٰ حضرت پہ قائم رہو
زندگی دی گئی ہے اسی کے لیے

صلح کلی نبی کا نہیں سنیوں
سنی مسلم ہے سچا نبی کے لیے

وہ بلاتے ہیں کوئی یہ آواز دے
دم میں جا پہنچوں میں حاضری کے لیے

اخترِ قادری خلد میں چل دیا
خلد وا ہے ہر ایک قادری کے لیے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top