آپ شمعِ رسالت ہیں پروانے ہم

Aap Shamme Risalat Hain Lyrics in Urdu
آپ شمعِ رسالت ہیں پروانے ہم
اب ہم آخر یہاں سے کدھر جائیں گے
زندگی تو ہماری اسی در سے ہے
آپ سے دور ہوں گے تو مر جائیں گے

جس نے مانگا ہے قطرہ تو دریا دیا
جس نے دامن پھیلایا اسے بھر دیا
بس تمہاری سخاوت ہم کو بھرم
خالی دامن کبھی ہم نہ رہ جائیں گے

ذات میں ہم تو سرور نکارے سہی
پھر بھی نسبت ہماری نیاری سہی
بس تمہاری شفاعت پہ ہم کو بھرم
خُلد میں بھی اے پیارے اگر جائیں گے

مثلِ پروانہ ہم آپ کو ڈھونڈتے
صبحِ صادق بھی آقا اب ہونے کو ہے
جبکہ دیدار ہم آپ کا پائیں گے
گر قدموں میں آقا ہم مر جائیں گے

جائیں اجمیر کو جائیں بغداد کو
شاہِ طیبہ کسی کے بھی دربار کو
ایک سوال ان سے ہر دم یہ کرتے رہے
یا ولی کب مدینے کو ہم جائیں گے

عرض دل سے یہ اشرف کی آقا سنو
ہاں بظاہر ہے ناصر کے لب پر مگر
جب میں آؤں مدینے میں دیدار کو
کہنا دیوانے اب تم کدھر جاؤ گے

Aa

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top