آیا رمضان کا مہینہ خافلہ چلا سوئے مدینہ
مجھے بھی دو اذنِ مدینہ آنے کی سرکارِ مدینہ
مجھے نہ آیا بلاوا کتنی ہے دل میں تمنا
کاش آقا میں بھی دیکھ لیتا بہارِ رمضانِ مدینہ
میری قسمت کو بھی خدارا تم سجانا
حسنین کے صدقے میں دکھانا بار بار مدینہ
کہاں جاؤں کہاں دامن پھیلاؤں میں مالکِ مدینہ
آس لگائی ہم نے تمہارے در سے اے شہنشاہِ مدینہ
کہیں ایسا نہ ہو سینے میں دفن کرکے غمِ مدینہ
میں دنیا سے چلا جاؤں بن دید کے مدینہ
غموں کے سیلاب میں ڈوبا جارہا ہوں سلطانِ مدینہ
للہ امداد کو آؤ مری سرورِ مدینہ
اس سال ضرور مجھ عاصی کو سرکار بلانا
روضۂ انور اور گنبدِ خضریٰ دکھانا
چمکا کر میری آنکھوں کو جلوہ دکھا دینا
دیکھ لوں آنکھ بھر کے تم کو شاہِ مدینہ
دنیا کی محبت دل سے نکل جائے آقاِ مدینہ
رہے چشمِ نم دل میں بس غمِ مدینہ
مانا کہ نہیں قابل ہوں جو دیکھوں تمہارا مدینہ
پھر لاؤں کہاں سے وہ اعمال میں سرکارِ مدینہ
نہیں جابر کے پاس کوئی زر جو دیکھے پیارا مدینہ
اتنا تو ہو کرم خوابوں میں اسے دکھاؤ مدینہ
نہیں مال و زر تو کیا ہیں میں غریب ہوں یہی نا
میرے عشق مجھ کو لے چل تو جانبِ مدینہ مدینہ