اہلِ صِراط رُوحِ امین کو خبر کریں
جاتی ہے اُمّتِ نبوی عرش پر کریں
بَد ہیں تو آپ کے ہیں، بَھلے ہیں تو آپ کے
ٹکڑوں سے تو یہاں کے پلے، رُخ کدھر کریں
سرکار! ہم کمینوں کے اَطوار پر نہ جائیں
آقا حضور اپنے کرم پر نظر کریں
جالوں پہ جال پڑ گئے، للّٰہ وقت ہے
مشکل کشائی آپ کے ناخن اگر کریں
ان کی حرم کے خار کشیدہ ہیں کس لیے
آنکھوں میں آئیں، سر پہ رہیں، دل میں گھر کریں
کلک رَضا ہے خنجرِ خوں خوار بَرق بار
اَعدا سے کہہ دو خیر منائیں، نہ شر کریں